حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مظفرآباد/ اخلاقی و تربیتی بحرانوں کے حل اور معاشرے میں علماء کے کردار کے موضوع پر مظفرآباد کے ایک نجی گیسٹ ہاؤس میں اہم سیمینار منعقد ہوا، جس میں علماء کرام، اساتذہ، سماجی شخصیات اور سول سوسائٹی کے نمائندگان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نثار حسین ہمدانی، سید ذہین علی نجفی، ممتاز حسینی، مجاہد فاطمی اور اعتزاز نقوی نے کہا کہ موجودہ دور میں معاشرہ اخلاقی اور تربیتی حوالے سے متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے علماء، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے تمام ذمہ دار طبقات کو اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کرنا ہوں گی۔
مقررین نے کہا کہ اخلاقی بحران صرف نوجوان نسل کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اور اجتماعی معاشرتی چیلنج ہے۔ جھوٹ، عدم برداشت، بداعتمادی، بدزبانی، والدین سے دوری، باہمی احترام میں کمی اور حقوق العباد سے غفلت جیسے مسائل معاشرتی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان مسائل کا حل محض وقتی نصیحتوں یا عارضی اقدامات میں نہیں، بلکہ مسلسل، منظم اور مؤثر تربیتی جدوجہد میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ گھر تربیت کی پہلی درسگاہ ہے، جبکہ مدرسہ اور مسجد دینی و اخلاقی تربیت کے اہم مراکز اور تعلیمی ادارے شخصیت سازی کے بنیادی مراکز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور باہمی تعاون کو فروغ دیا جائے، تاکہ نئی نسل کو علم کے ساتھ ساتھ کردار، شعور، ذمہ داری، برداشت اور خدمت کا جذبہ بھی عطا کیا جا سکے۔
مقررین نے علماء کرام کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علماء کا کردار صرف منبر و محراب تک محدود نہیں، بلکہ وہ معاشرے کی فکری، اخلاقی اور تربیتی رہنمائی میں بھی اہم ذمہ داری رکھتے ہیں۔ علماء کو چاہیے کہ وہ نوجوان نسل کے مسائل اور بدلتے ہوئے حالات کو سمجھتے ہوئے ان کے ساتھ مؤثر مکالمہ کریں اور دینی تعلیمات کو عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ اور مؤثر انداز میں پیش کریں۔
سیمینار میں اساتذہ کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ استاد محض کتابی علم منتقل کرنے والا نہیں بلکہ طالب علم کی شخصیت اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ اسی طرح والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ مناسب وقت گزاریں، ان کے مسائل اور جذبات کو سمجھیں اور محبت، حکمت اور اپنے عملی کردار کے ذریعے ان کی بہتر تربیت کریں۔
شرکاء نے اس امر پر زور دیا کہ مساجد، مدارس، تعلیمی اداروں اور دینی مراکز میں نوجوانوں کے لیے باقاعدہ فکری، اخلاقی اور تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جائے، جبکہ سوشل میڈیا کو بھی مثبت دینی، علمی اور اخلاقی پیغام کے فروغ کے لیے مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔
سیمینار کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ اخلاقی و تربیتی بحران کا مقابلہ کسی ایک طبقے کی ذمہ داری نہیں بلکہ علماء، اساتذہ، والدین، سماجی اداروں اور سول سوسائٹی کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ مسلسل رابطے، باہمی مشاورت اور عملی اقدامات کے ذریعے ہی معاشرے میں مثبت اور پائیدار اخلاقی و تربیتی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔










آپ کا تبصرہ